The way you access our dictionary content is changing.

As part of the evolution of the Oxford Global Languages (OGL) programme, we are now focussing on making our data available for digital applications, which enables a greater reach in delivering and embedding our language data in the daily lives of people and providing more immediate access and better representation for them and their language.

Because of this, we have made the decision to close our dictionary websites.
Our Oxford Urdu living dictionary site closed on 31st March 2020, and this forum closed with it.

We would like to warmly thank everyone for your participation and support throughout these years – we hope that this forum, and the dictionary site, have been useful
You were instrumental in making the Oxford Global Languages initiative a success!

Find out more about what the future holds for OGL:
https://languages.oup.com/oxford-global-languages/

اوکسفرڈ کہانی نویسی کے مقابلے میں پہلا انعام پانے والی کہانی

تحریر: سیدہ زینب زہرا عابدی

اردو سے میری وابستگی ایک ایسے واقعے کا نتیجہ ہے جس نے میرے دل و دماغ میں اپنی زبان سے محبت کا ایسا جذبہ پیدا کر دیا جس کے نقوش وقت گزرنے کے ساتھ گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ محبت زور زبردستی سے نہیں کی جا سکتی، یہ تو ایک ایسا پودا ہے جو دل میں موجود والہانہ جذبے سے خودبخود پروان چڑھتا ہے۔ ہاں، مگر اس پودے کو خلوصِ دل کی آبیاری درکار ہوتی ہے۔

اردو سے میری محبت بھی کچھ اسی طرح سے شروع ہوئی۔ آئیے میں آپ کو اس کے متعلق آغاز سے سب کچھ بتاتی ہوں:

جب میں چھ سال کی تھی تو میرے والدین نے کینیڈا میں سکونت اختیار کر لی۔ وہاں سرکاری سکول میں زیرِ تعلیم ہونے کی وجہ سے میں آہستہ آہستہ اردو سے دور ہوتی چلی گئی جب کہ میرے گھر میں میرے امی بابا کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ ہم سب آپس میں اردو میں گفتگو کریں۔ با با نے اردو ٹی وی چینلز کا بھی گھر میں انتظام کیا ہوا تھا تاکہ ہماری اردو سے شناسائی برقرار رہے لیکن معلوم نہیں کیوں مجھے اردو کی بجائے انگریزی میں بول چال اور لکھنے پڑھنے میں دلچسپی تھی۔ کچھ دن بعد سکول میں میری ایک دوست سارہ بنی جس کا تعلق فرانس سے تھا تاہم اسے دوسری زبانیں سیکھنے کا بھی بہت شوق تھا۔

ایک دن سارہ میرے گھر آئی ہوئی تھی۔ ہم سب لاؤنج میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ اچانک ٹی وی پر علامہ اقبال کی مشہور نظم ’لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری‘ شروع ہوئی۔ سارہ مجھ سے بات کرتے کرتے اچانک چونک گئی اور نظم سننے میں محو ہو گئی۔ نظم کے اختتام پر اس نے پوچھا کہ ’یہ نظم کس زبان میں ہے، مجھے اس کا طرزِ ادا اور الفاظ بہت اثر انگیز محسوس ہو رہے ہیں۔‘

میں نے سارہ کو بتایا کہ یہ اردو ہے۔ تو اس نے کہا کہ ’یہ تو تمھاری مادری زبان ہے نا؟ مجھے بھی یہ زبان سکھاؤ۔ مجھے اس زبان میں بڑی چاشنی اور مٹھاس محسوس ہو رہی ہے۔‘

سارہ اردو سیکھنے کے لیے بےقرار تھی اور میں سوچ رہی تھی کہ ایک غیر زبان کی ہو کر بھی وہ اردو سیکھنے کے لیے اس قدر بےتاب ہے جب کہ اردو تو میری مادری زبان ہے۔

میں دل میں بہت شرمندہ ہوئی اور عہد کیا کہ میں نہ صرف خود اپنی اردو بہتر کروں گی بلکہ سارہ کو بھی اپنی زبان سے متعارف کرواؤں گی اور یہ کام جبر سے نہیں بلکہ اپنی زبان کی محبت سے سرشار ہو کر ہو گا۔

پھر ہفتہ وار چھٹی کے دوران سارہ میرے گھر آتی اور میں اسے اردو زبان سے متعلق باتیں بتاتی۔ ہمارے درمیان ادبی گفتگو بھی ہوا کرتی۔ رفتہ رفتہ سارہ اردو زبان کے کافی الفاظ سیکھ گئی اور میں نے بھی محسوس کیا کہ اردو سے محبت کا بیج تو میرے دل میں پہلے سے موجود تھا۔ اب جو میں نے توجہ اور خلوص سے اس کا خیال رکھا تو یہ تناور درخت بنتا گیا۔

تبصرے

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔