گھاٹن

منٹو کے مشہور افسانے بو میں ایک کردار ہے جسے منٹو نے ’گھاٹن‘ کہہ کر مخاطب کیا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گھاٹن کا کیا مطلب ہے؟

لغت میں گھاٹن کا مطلب مندرجہ ذیل درج ہے

پہاڑی علاقے میں رہنے والی عورت

لیکن اگر گھاٹن گھاٹ سے نکلا ہے تو گھاٹ تو اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کشتیاں آ کر رکتی ہیں

دریا یا تالاب وغیرہ کے کنارے پر بنی ہوئی سیڑھیاں، جہاں پانی بھرتے اور نہاتے دھوتے ہیں

پانی بھرنے یا نہانے دھونے کی جگہ ، وہ سیڑھیوں دار مقام جہاں لوگ نہاتے ہیں

ساحل پر وہ مقام جہاں سے دریا کو پار کریں ، وہ مقام جہاں سے کشتی پر سوار ہوں یا اُتریں

تو پھر گھاٹن پہاڑی علاقے سے تعلق رکھنے والی عورت کیسے ہو گیا؟

لیکن اسی لغت میں اگر نیچے جا کر دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ گھاٹ کا صرف یہی مطلب نہیں، بلکہ یہی لفظ اور معنی بھی دیتا ہے

تلوار کا خم ، خمِ شمشیر ، باڑھ سے اوپر کا حصہ
مقام، منزل، راستہ، سمت، رخ

انگیا کے سامنے کا مثلث نما کُھلا ہوا حصّہ ، انگیا کا گریبان
تراش خراش، وضع قطع، روپ، صورت، ڈول، ڈھنگ ، انداز ، طرز،.
راہ، راستہ

ہندو: دُلہن کا لہنگا

شکاری: شیر یا کسی اور جنگی جانور کا رات کے وقت شکار کرنے کے لیے درخت کے اوپر گھات میں بیٹھنے کی بنائی ہوئی جگہ، مالا

اسی کے ساتھ ایک اور معنی بھی درج ہیں

دشوارگزار پہاڑی راستہ، گھاٹی، درۂ کوہ، پہاڑ
پہاڑ ، پربت

اور یہی وہ معنی ہیں جس سے گھاٹن بمعنی پہاڑی عورت نکلا ہے۔

گھاٹ بمعنی پہاڑی درہ کا اسمِ تصغیر اردو میں زیادہ مستعمل ہے یعنی گھاٹی۔

پس معلوم ہوا کہ گھاٹن پہاڑی عورت کو کہتے ہیں، ایسے ہی جیسے تحقیر کی غرض سے پہاڑوں کے باسیوں کو بعض علاقوں میں پہاڑیا کہا جاتا ہے۔

تبصرے

  • کیا کہتے ہیں دوست بیچ اس مسئلے کے؟ کیا وہ اس تعبیر سے مطمئن ہیں؟

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔