روح و رواں یا روحِ رواں؟

یہ ترکیب عام طور پر روحِ رواں لکھی جاتی ہے، جیسے فلاں شحص محفل کی روحِ رواں تھا۔

لیکن یہ درست نہیں ہے۔

اصل ترکیب روح و رواں ہے۔ اب سوال اٹھتا ہے کہ روحِ رواں کے معنی تو چلو
یہ بنتے ہیں کہ رواں یا متحرک روح، لیکن روح و رواں کا مطلب کیا ہوا؟

اصل میں یہاں رواں کا مطلب جاری یا متحرک نہیں ہے، بلکہ یہاں رواں کا مطلب بھی روح یا جان بھی ہے۔

اس معنی کی سند میں لغتِ کبیر میں یہ شعر بھی درج ہے:

شریعت کا روح اور طریقت کی جاں
حقیقت کا جیو، معرفت کی رواں

اب دوسرا سوال یہ ہے کہ روح و رواں کہنے کی کیا ضرورت ہے جب دونوں الفاظ کا مطلب ایک ہی ہے؟

اصل میں اردو زبان کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ بعض اوقات کلام میں زور پیدا کرنے کے لیے ہم معنی الفاظ کی تکرار کی جاتی ہے۔ اس کی بہت سی مثالیں ہیں، جن میں سے چند پیشِ خدمت ہیں:

بلند و بالا، حسین و جمیل، ناز و ادا، ظلم و ستم، ذلیل و خوار، مشہور و معروف، انتظام و انصرام، عجز و انکسار، نحیف و نزار، بخیر و عافیت۔

آپ نے ملاحظہ کیا ہو گا کہ ان تمام تراکیب میں شامل دونوں الفاظ کے معنی بالکل ایک ہیں اور اگر ایک کو نکال بھی دیں تب بھی مطلب برقرار رہے گا، البتہ زورِ کلام میں کمی واقع ہو جائے گی۔

یہی حال روح و رواں کا ہے، دونوں الفاظ کا مطلب ایک ہی ہے، یعنی روح۔

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔