بیت بازی

1457910

تبصرے

  • ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر
    کعبہ میرے پیچھے ہے کلیسا میرے آگے
    (مرزا اسد اللہ خان غالب)

  • یہ کس نے دستِ بُریدہ کی فصل بوئی تھی
    تمام شہر میں نخلِ دُعا نکل آئے

    عرفان صدیقی

  • یہ جبرِسیاست یہ انساں مظلوم آہیں مجبور فغاں
    زخموں کی مہک داغوں کا دھواں،مت پوچھ فضائے زنداں میں
    (مجروح سلطان پوری)

  • ناوک نے ترے صید نہ چھوڑا زمانے میں
    تڑپھے ہے مرغِ قبلہ نما آشیانے میں

  • نشہ تلخی ایام اترتا ہی نہیں
    تری نظروں نے گلابی تو بہت چھلکائی
    (ناصر کاظمی)

  • یقین ہو تو رگ سنگ بھی ہے موج شراب
    یقین نہ ہو تو سمندر بھی قطرہ شبنم

  • مئے سے غرض نشاط ہے کس روسیاہ کو
    ایک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیئے
    (غالب)

  • یہی دل تھا کہ ترستا تھا مراسم کے لیے
    اب یہی ترکِ تعلق کے بہانے مانگے

    فراز

  • یہ کیا ستم ہے کیوں رات بھر سسکتا ہوں
    وہ کون ہے جو دیوں میں جلا رہا ہے مجھے
    (ساقی فاروقی)

  • June 2017 کو ترمیم کیا

    یہ موج موج کا اک ربط درمیاں ہی سہی
    تو کیا ہوا میں ا گر دوسرا کنارہ ہوا

    فراز

  • اے شمع تجھ پہ رات یہ بھاری ہے جس طرح
    میں نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح
    (ناطق لکھنوی)

  • حادثہ ہے کہ خزاں سے پہلے
    بوئے گل گل سے جدا ہوتی ہے

    ناصر کاظمی

  • یوں تو وہ میری رگ جاں سے بھی تھے نذدیک تر
    آنسوؤں کی دھند میں لیکن نہ پہچھانے گئے
    (خاطر غزنوی)

  • یا رب کسی صدی کے افق پر ٹھہر نہ جائے
    اک ایسی صبح جس کا دھندلکا لباس ہو

    غلام محمد قاصر

  • روک سکتا ہمیں زندانِ بلا کیا مجروح
    ہم تو آواز ہیں دیوار سے چھن جاتے ہیں
    مجروح سلطاب پوری

  • آواز دیوار سے کیسے چھن جاتی ہے؟ لگتا ہے بڑی چھلنی چھلنی دیوار ہو گی

    :smile:

  • ظفر بھائی یہ تو مجروح سلطان پوری سے پوچھئیے، ویسے ہر دیوار ساؤنڈ پروف نہیں ہوا کرتی۔۔۔

  • نہ چھیڑ اے نکہتِ بادِ بہاری راہ لگ اپنی
    تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں

  • ہم تو سمجھے تھے کہ برسات میں برسے گی شراب
    آئی برسات تو برسات نے دل توڑ دیا

  • آنے والی برکھا دیکھیں کیا دکھلائے آنکھوں کو
    یہ برکھا برساتے دن تو بن پریتم بیکار گئے
    (حبیب جالب)

  • یہ حال ہے تو بدن کو بچایئے کب تک
    صدا میں دھوب بہت ہے لہو میں لو ہے بہت

  • تپتا صحرا ہے ہر ایک شہر اور امید سکوں
    ایک بدلی ہے جو اوپر سے گزرتی جائے

  • یہ جو روشنی ہے کلام میں کہ برس رہی ہے تمام میں
    مجھے صبر نے یہ ثمر دیا مجھے ضبط نے یہ ہنر دیا

  • اک رات وہ گیا تھا جہاں بات روک کے
    اب تک کھڑا ہوا ہوں وہیں رات روک کے

  • یہ غربتیں میری آنکھوں میں کیسی اتری ہیں
    کہ خواب بھی میرے رخصت ہیں، رتجگا بھی گیا

  • اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
    مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
    (زوق)

  • یہ بات بڑھی کہ مر گئے ہم
    موت آئی تھی قصہ مختصر رات
    مومن

  • تارے آنکھیں جھپک رہے تھے
    تھا بام پر کون جلوہ گر رات
    مومن

  • تمہاری چال کی آہستگی کے لہجے میں
    سخن سے دل کو مسلنے کا کام لینا ہے
    بشیر بدر

  • یہ تکلف یہ مدارات سمجھ میں آئے
    ہو جدائی تو ملاقات سمجھ میں آئے
    عبرت مچھلی شہری

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔