بیت بازی

1235710

تبصرے

  • آ رہی ہے چاہِ یوسف سے صدا
    دوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت

  • اے جزبہ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آجائے
    منزل کے لئے دو گام چلوں اور سامنے منزل آجائے

  • یوں نہ مٹی کو حقارت کی نظر سے دیکھو
    کوزہ گر میں ہے نہاں اصل ہنر مٹی کا
  • اب کے بہت ہے شورِ بہاراں ہم کو مت زنجیر کرو
    دل کی ہوس ٹک ہم بھی نکالیں دھومیں ہم کو مچانے دو

  • وقت کے ساتھ ہرایک چیز بدلتے دیکھی
    رشتہِ درد مگر گوہرِیکتا نکلا

  • انجان ساحلوں کے پرندوں پہ ہے نگاہ
    پلکوں کے بادبان کھلے ہیں سفر میں ہوں

  • نہ جانے کون سا آسیب دل میں بستا ہے
    کہ جو بھی ٹھہرا،وہ آخر مکان چھوڑگیا
    ( پروین شاکر )

  • اپنی انا کی آج بھی تسکین ہم نے کی
    جی بھر کے اس کے حسن کی توہین ہم نے کی

  • یہ کہہ کے دل نے میرے حوصلے بڑھائے ہیں
    غموں کی دھوپ کے آگے خوشی کے سائے ہیں
    ( ماہر القادری)

  • نالہ دل نے دیئے،اوراقِ لختِ دل، بہ باد
    یادگارِ نالہ، ایک دیوانِ بے شیرازہ تھا
    (مرزا اسد اللہ خان غالب)

  • اک حقیقت سہی فردوس میں حوروں کا وجود
    حسنِ انسان سے نمٹ لوں تو وہاں تک دیکھوں
    ( احمد ندیم قاسمی )

  • نے گلِ نغمہ ہوں نہ پردۂ ساز
    میں ہوں اپنی شکست کی آواز

  • زندگی پہاڑی راستے کا سفر
    موڑ بدلا بدل گیا منظر
    (شاہد اے خان)

  • شاہد بھائی شعر تو خوب ہے، البتہ جہاں تک میں سمجھ پایا، دوسرا مصرع بحر خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع میں ہے، لیکن پہلے کی تقطیع کرنے سے بندہ قاصر رہا۔ اگر ناگوار نہ گزرے تو نظرِ ثانی کر لیجیے۔

  • رت بدلتی ہے تو معیار بدل جاتے ہیں
    بلبلیں خار لیے پھرتی ہیں منقاروں میں
    ( احمد ندیم قاسمی)

  • زیف بھائی آپ کو اختیار ہے مصرع اولیٰ میں اصلاح کر دیجئے

  • نگاہ بے محاباچاہتاہوں
    تغافل ہائےتمکیں آزما کیا
    (مرزا اسد اللہ خان غالب)

  • مجھے تو یہی سوجھ رہا ہے

    زندگی اک سفر کہستانی
    موڑ بدلا، بدل گیا منظر

  • اے خالِ رخ یار تجھے ٹھیک بناتا
    جا چھوڑ دیا حافظِ قرآن سمجھ کر
    (شاہ محمد نصیر الدین)

  • راستوں کا غرور تو دیکھو
    جیسے تیری گلی کو جاتے ہوں

  • نہ آئی سطوتِ قاتل بھی مانع،میرے نالوں کو
    لیا دانتوں میں جو تنکا،ہواریشہ نیستاں کا
    (مرزا اسد اللہ خان غاب)

  • اقبال بڑا اپد یشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے
    گفتار کا یہ غازی تو بنا کردار کا غازی بن نہ سکا

  • اِس کو یقیں تو جان کہ حیراں ہے اب تلک
    عیسیٰ پئے معالجہٗ نفخِ آسماں
    (سودا)

  • نہیں مصروف میں اتنا کہ گھر کا راستہ بھولوں
    نہ ہو جب منتظر کوئی، تو گھر اچھے نہیں لگتے

  • یہ محبت کا فسانہ بھی بدل جائے گا
    وقت کے ساتھ زمانہ بھی ندل جائے گا
    (اظہر لکھنوی)

  • اتفاق اپنی جگہ خوش قسمتی اپنی جگہ
    خود بناتا ہے جہاں میں آدمی اپنی جگہ

    انور شعور

  • ہمیں تو عہدِ الفت کو قیامت تک نبھانا ہے
    وہ رہتا ہے اگر ہم سے رہے بیزار بسم اللہ

  • ہووےبھی گرمعین اس کا مکاں، تو کس کے
    واں چھوٹنے کا ناداں، دل کے تئیں گماں ہو
    (محمد رفیع سودا)

  • وہ آے بزم میں اتنا تو برق نے دیکھا
    پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
    (برق)

  • یک لبِ ناں کیلئے، حیراں ہوتے شہر شہر
    مثلِ ماہ نو، پڑے پھرتے ہیں عالی ہمتاں
    (سودا)

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔