بیت بازی

1356710

تبصرے

  • تھے بہت بے درد لمحے ختمِ دردِ عشق کے
    تھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد

  • تمہیں بھلانا ہی اول تو دسترس میں نہیں !
    جو اختیار بھی ہوتا تو کیا بھلا دیتے ؟​

  • یہی فرماتے رہے تیغ سے پھیلا اسلام
    یہ نہ ارشاد ہوا توپ سے کیا پھیلا ہے
    (اکبر الہ آبادی)

  • یوں تڑپ کر دل نے تڑپایا سر محفل مجھے
    اس کو قاتل کہنے والے کہہ اٹھے قاتل مجھے

  • یہ بھی کیا منظر ہے، بڑھتے ہیں نہ رکتے ہیں قدم
    تَک رہا ہوں دور سے منزل کو میں منزل مجھے

  • یہ عجیب حسن قیاس ہے، کہ جو دور ہے وہی پاس ہے
    یہ تصورات کے واہمے، میرے دشت غم کے غزال ہیں

  • نظر نہ آئے تو سو وہم دل میں آتے ہیں
    وہ ایک شخص جو اکثر دکھائی دیتا ہے

  • یارب ہیں مرے ساتھ بہت حسرت و ارماں​
    ہو وسعتِ صحرائے عدم اور زیادہ​

  • ہم نے کیا کچھ نہ کیا دیدہ دل کی خاطر
    لوگ کہتے ہیں دعاوں میں اثر ہوتا ہے

  • یہی دل تھا کہ تڑپتا تھا مراسم کے لئے
    اب یہی ترکِ تعلق کے بہانے مانگے

  • یہ کیا عذاب ہے سب اپنے آپ میں گم ہیں
    زباں ملی ہے مگر ہم زباں نہیں ملتا
    (ندا فاضلی)

  • ایسے چھپنے سے نہ چھپنا ہی تھا بہتر تیرا
    تو ہے پردے میں مگر ذکر ہے گھر گھر تیرا

  • اس ایک نظر کے قصے ہزار بزم میں
    اتنا سمجھا سکا جسے جتنا شعور تھا

  • اذیت دل کو دیتا ہے مسلسل
    مری آنکھوں سے وہ چہرہ ہٹا دو

  • وارداتیں تو کئی شہر میں گزری ہوں گی
    آج اخبار میں میری بھی خبر رکھ دینا

  • وہ عندلیب گلشن معنی ہوں میں حفیظ
    سوز سخن سے آگ لگا دوں بہار میں

  • نگہت بادبہاری جاچکی
    خسرو گل کی سواری جاچکی
    اے متاع روزگار عاشقاں
    عشق کی بازی تو ہاری جاچکی

    (جون ایلیا)

  • یہی تو محبت ہے یارو کہ اب وہ
    ہماری طرف کم سے کم دیکھتے ہیں

    (جون ایلیا)

  • نہ روٹھو جو لکھتے ہیں اوروں کو خط ہم
    ذرا اپنا زور قلم دیکھتے ہیں

    (جون ایلیا)

  • یوں خاک اڑا رہا ہوں گھر میں
    جیسے مرے ساتھ قافلے ہیں

  • نہیں شوریدگان شہر میں وہ سوزِ جاں اب کے
    ہیں شامیں سوختہ جانوں کی بے شورِ فغاں اب کے

  • یاد اذیت ناک بنا کر خوش ہوتا ہوں
    جلتے دیے کو ہاتھ لگا کر خوش ہوتا ہوں

  • نورِجہانِ شہر نے سب کچھ بھلا دیا
    زیب النسائے نظمِ معلی چلی گئی
    (جون ایلیا)

  • برہمن مجھ کو بنانا نہ مسلماں کرنا
    مرے ساقی مجھے مست مے عرفاں کرنا

  • تیرا ہر جلوہ ہے آئینہ اسرار غزل
    تیری صورت میں ہیں انوار معانی صنما

  • جان جاتی ہے میری جانے دو
    بات تو آپ کی نہیں جاتی

  • جی چاہتا ہے سینئہ افلاک چیر کر
    طوفانِ ابر و باد کو مُٹھی میں بھر لیں ہم

  • مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
    من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا

  • ایسی ہی انتظار میں لذت اگر نہ ہو
    تو دو گھڑی فراق میں اپنی بسر نہ ہو

    (ریاض خیر آبادی)

  • وہ سامنے دھری ہے صراحی بھری ہوئی
    دونوں جہاں ہیں آج میرے اختیار میں

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔