بیت بازی

2456710

تبصرے

  • اے دل کسی کی یاد میں، ہوتا ہے بیقرار کیوں
    جس نے بھلا دیا تجھے، اس کا ہے انتظار کیوں

  • پیہم سجود پائے صنم پر دمےوداع
    مومن خدا کو بھول گئے اضطراب میں

  • یہ بہت پہنچے ہوئے لگتے ہیں
    ان درختوں سے عقیدت ہے مجھے

  • پچھلا شعر غلطی سے پوسٹ ہو گیا

    نکلا ہوں شہرِ خواب سے ایسے عجیب حال میں
    غرب مرے جنوب میں، شرق مرے شمال میں

  • نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے
    دیا جل رہا ہے ہوا چل رہی ہے

  • یہ کیا کہ اک جہاں کو کرو وقفِ اضطراب
    یہ کیا کہ ایک دل کو شکیبا نہ کر سکو

  • وہ اب مرے کہ جئے دل پہ کوئی بوجھ نہیں​
    میں مطمئن ہوں کہ پہلے اُسی نے وار کِیا

  • کاغز کے پھول سر پہ سجا کر چلی حیات
    نکلی برون شہر تو بارش نے آلیا

  • الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
    لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

  • اے گُل تو رخت باندھ ، اُٹھاؤں ميں آشياں​
    گُل چِيں تجھے نہ ديکھ سکے باغباں مجھے​

  • یہ لوگ سیر کو نکلے ہیں سو بہت خوش ہیں
    میں دل گرفتہ ہوں سبزے کی پائمالی پر

  • رُخ کدھر موڑ گیا ہے دریا
    اب نہ وہ لوگ نہ بستی ہے یہاں

  • نہیں میاں بجھا ہوا نہیں یہ دل
    نہیں ہمیں یہ طاق سے نہیں ملا

  • اے خاک نشینو اُٹھ بیٹھو، وہ وقت قریب آ پہنچا ہے
    جب تخت گِرائے جائیں گے، جب تاج اُچھالے جائیں گے

  • یہ بھنور کون سا موتی مجھے دے سکتا ہے
    بات یہ ہے کہ مجھے خود کو ڈبونا ہے یہاں

  • نظر آئیں مجھے تقدیر کی گہرائیاں اس میں
    نہ پوچھ اے ہمنشیں مجھ سے وہ چشمِ سرمہ سا کیا ہے

  • یہ جو سرگشتہ سے پھرتے ہیں کتابوں والے
    ان مت مل کہ انھیں روگ ہیں خوابوں والے

  • یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
    ایک ہی شخص تھا دھیان میں کیا

  • ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جابسیں
    اتنی جگہ کہاں ہے دل داغ دار میں

  • نہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا
    جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو تن داغ داغ لٹا دیا

  • اک آخری سفر کی کہانی ہوا میں ہے
    بکھرے ہوئے پروں کی نشانی ہوا میں ہے

  • یوں تو گلشن میں تھے ہزاروں گلہائے رنگا رنگ
    مجھ کو تو پسند آئے فقط سادگی کے پھول

  • لفظ مردہ ہیں، لغت کوئی اٹھا کر دیکھو
    صرف جذبات ہی لفظوں کو اثر دیتے ہیں

  • نقشِ فریادی ہے کس کی شوخئ تحریر کا
    کاغذی ہے پیراہن ہر پیکرِ تصویر کا

  • اس نے اپنا بنا کے چھوڑ دیا
    کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے

  • یہ غربتیں میری آنکھوں میں کیسی اتری ہیں
    کہ خواب بھی میرے رخصت ہیں، رتجگا بھی گیا

  • اے عقل تو ز شوق پراگندہ گوئے شو
    اے عشق نکتہ ہائے پریشانم آرزوست
    (رومی)

    ترجمہ: اے عقل! تو شوق سے پراگندہ گو بن جا!
    اے عشق!تجھ سے مجھے پریشان کر دینے والے نکات سننے کی آرزو ہے

  • تخلیقِ کائنات کے دلچسپ جرم پر
    ہنستا تو ہو گا حضرتِ یزداں کبھی کبھی

  • تھا ضبط بہت مشکل اس سیل معانی کا
    کہہ ڈالے قلندر نے اسرار کتاب آخر

  • راہ تکتے ہیں کہیں دور کئی سست چراغ
    اور ہوا تیز ہوئی جاتی ہے، اچھا، مرے دوست

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔