The way you access our dictionary content is changing.

As part of the evolution of the Oxford Global Languages (OGL) programme, we are now focussing on making our data available for digital applications, which enables a greater reach in delivering and embedding our language data in the daily lives of people and providing more immediate access and better representation for them and their language.

Because of this, we have made the decision to close our dictionary websites.
Our Oxford Urdu living dictionary site closed on 31st March 2020, and this forum closed with it.

We would like to warmly thank everyone for your participation and support throughout these years – we hope that this forum, and the dictionary site, have been useful
You were instrumental in making the Oxford Global Languages initiative a success!

Find out more about what the future holds for OGL:
https://languages.oup.com/oxford-global-languages/

بیت بازی

2456710

تبصرے

  • اے دل کسی کی یاد میں، ہوتا ہے بیقرار کیوں
    جس نے بھلا دیا تجھے، اس کا ہے انتظار کیوں

  • پیہم سجود پائے صنم پر دمےوداع
    مومن خدا کو بھول گئے اضطراب میں

  • یہ بہت پہنچے ہوئے لگتے ہیں
    ان درختوں سے عقیدت ہے مجھے

  • پچھلا شعر غلطی سے پوسٹ ہو گیا

    نکلا ہوں شہرِ خواب سے ایسے عجیب حال میں
    غرب مرے جنوب میں، شرق مرے شمال میں

  • نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے
    دیا جل رہا ہے ہوا چل رہی ہے

  • یہ کیا کہ اک جہاں کو کرو وقفِ اضطراب
    یہ کیا کہ ایک دل کو شکیبا نہ کر سکو

  • وہ اب مرے کہ جئے دل پہ کوئی بوجھ نہیں​
    میں مطمئن ہوں کہ پہلے اُسی نے وار کِیا

  • کاغز کے پھول سر پہ سجا کر چلی حیات
    نکلی برون شہر تو بارش نے آلیا

  • الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
    لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

  • اے گُل تو رخت باندھ ، اُٹھاؤں ميں آشياں​
    گُل چِيں تجھے نہ ديکھ سکے باغباں مجھے​

  • یہ لوگ سیر کو نکلے ہیں سو بہت خوش ہیں
    میں دل گرفتہ ہوں سبزے کی پائمالی پر

  • رُخ کدھر موڑ گیا ہے دریا
    اب نہ وہ لوگ نہ بستی ہے یہاں

  • نہیں میاں بجھا ہوا نہیں یہ دل
    نہیں ہمیں یہ طاق سے نہیں ملا

  • اے خاک نشینو اُٹھ بیٹھو، وہ وقت قریب آ پہنچا ہے
    جب تخت گِرائے جائیں گے، جب تاج اُچھالے جائیں گے

  • یہ بھنور کون سا موتی مجھے دے سکتا ہے
    بات یہ ہے کہ مجھے خود کو ڈبونا ہے یہاں

  • نظر آئیں مجھے تقدیر کی گہرائیاں اس میں
    نہ پوچھ اے ہمنشیں مجھ سے وہ چشمِ سرمہ سا کیا ہے

  • یہ جو سرگشتہ سے پھرتے ہیں کتابوں والے
    ان مت مل کہ انھیں روگ ہیں خوابوں والے

  • یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
    ایک ہی شخص تھا دھیان میں کیا

  • ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جابسیں
    اتنی جگہ کہاں ہے دل داغ دار میں

  • نہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا
    جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو تن داغ داغ لٹا دیا

  • اک آخری سفر کی کہانی ہوا میں ہے
    بکھرے ہوئے پروں کی نشانی ہوا میں ہے

  • یوں تو گلشن میں تھے ہزاروں گلہائے رنگا رنگ
    مجھ کو تو پسند آئے فقط سادگی کے پھول

  • لفظ مردہ ہیں، لغت کوئی اٹھا کر دیکھو
    صرف جذبات ہی لفظوں کو اثر دیتے ہیں

  • نقشِ فریادی ہے کس کی شوخئ تحریر کا
    کاغذی ہے پیراہن ہر پیکرِ تصویر کا

  • اس نے اپنا بنا کے چھوڑ دیا
    کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے

  • یہ غربتیں میری آنکھوں میں کیسی اتری ہیں
    کہ خواب بھی میرے رخصت ہیں، رتجگا بھی گیا

  • اے عقل تو ز شوق پراگندہ گوئے شو
    اے عشق نکتہ ہائے پریشانم آرزوست
    (رومی)

    ترجمہ: اے عقل! تو شوق سے پراگندہ گو بن جا!
    اے عشق!تجھ سے مجھے پریشان کر دینے والے نکات سننے کی آرزو ہے

  • تخلیقِ کائنات کے دلچسپ جرم پر
    ہنستا تو ہو گا حضرتِ یزداں کبھی کبھی

  • تھا ضبط بہت مشکل اس سیل معانی کا
    کہہ ڈالے قلندر نے اسرار کتاب آخر

  • راہ تکتے ہیں کہیں دور کئی سست چراغ
    اور ہوا تیز ہوئی جاتی ہے، اچھا، مرے دوست

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔