بیت بازی

14567810»

تبصرے

  • نہ جمال و حسن کی بزم ہے نہ جنون و عشق کا عزم
    سرِ دشت رقص میں ہر گھڑی کوئی باد گرد ہے کس لیے
    عدیم ہاشمی

  • یہ بات آتے ہوئے سوچتا نہیں کوئی
    کہ سب یہاں سے پریشان جایا کرتے ہیں
    جمال احسانی

  • نامکمل ہے کوئی باب چمن جن کے بغیر
    قصۂ گل کے وہ اوراق خزانی دے جا

    جاوید شاہین

  • اے عشق نہ چھیڑ آ آ کے ہمیں، ہم اجڑے ہوؤں کو یاد نہ کر
    پہلے ہی بہت ناشاد ہیں ہم، اب اور ہمیں ناشاد نہ کر

  • رات تھی جب تمہارا شہر آیا
    پھر بھی کھڑکی تو میں نے کھول ہی لی
    شارق کیفی

  • یاد تھیں ہم کو بھی رنگارنگ بزم آرائیاں
    لیکن ان نقش و نگار طاق نسیاں ہوگئیں

  • نہ کوئی شعر، نہ کوئی غزل، نہ نام تیرا
    قلم کی نوک پہ یہ کیسا سکوت طاری ہے

  • یہ اور بات کہ منبر پہ جا کے کچھ نہ کہیں
    خموش لوگ بلا کے خطیب ہوتے ہیں

  • December 2017 کو ترمیم کیا

    نگاہین میرے گرد آلود چہرے پر ہیں دنیا کی
    جو پوشیدہ ہے باطن مین وہ جوہر کون دیکھے گا

  • نہ میرے قلم سے لکھی گئی، نہ میری زباں سے ادا ہوئی
    جو نظر سے کہنے کی بات تھی، کسی حرف میں نہ سما سکی

  • یہی نہیں کہ تجھی کو نہ تھی امید ایسی
    مجھے بھی علم نہیں تھا کہ یہ کروں گا میں
    انورشعور

  • نظر بجھی تو کرشمے بھی روزو شب کے گئے
    کہ اب تلک نہیں آئے ہیں لوگ جب کے گئے

  • یہ دھوپ ہی تھی اپنی گزرگاہ، سو رکھا
    اک فاصلہ بھی سایۃ اشجار سے ہم نے

  • یہ سچ ہے کہ تُو لفظوں کا سہارا تو نہیں لیتا
    تیرے خموش لہجے کی فصاحت مار دیتی ہے
    میرے پیغام کا مطلب وہ نہ سمجھے تو چپ رہنا
    کہ اکثر ایسے موقعوں پر وضاحت مار دیتی ہے

  • یہ محبت نہیں کچھ اور ہے صورت شاہیںؔ
    تم مزہ لے کے جو سنتے ہو برائی اس کی

    جاوید شاہین

  • یہ فقط غرور کی بات ہے کہ زباں سے اپنی تُم نہ کہو
    تمہیں ورنہ اس کی خلش تو ہے کہ تمہاری بزم مین ہم نہیں

  • نیا سال دیوار پر ٹانگ دے
    پرانے برس کا کلنڈر گرا

    محمد علوی مرحوم

  • اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے
    گفتار کا غازی تو بنا کردار کاغازی بن نہ سکا

  • اگلی محبتوں نے وہ نامرادیاں دیں
    تازہ رفاقتوں سے دل تھا ڈرا ڈرا سا

  • اک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے
    اور اب کوئی کہیں کوئی کہیں رہتا ہے

  • یاد رکھو تو دل کے پاس ہیں ہم
    بھول جاو تو فاصلے ہیں بہت

  • تو نے دریاؤں میں دیے بہائے ہیں
    میں بھی اپنے ہونٹ جلانے آیا ہوں
    نذیر قیصر

  • نکہت زلف پریشاں داستان شام غم

    صبح ہونے تک اسی انداز کی باتیں کرو

    فراق گورکھپوری

  • واعظ شراب پینے دے مسجد میں بیٹھ کر
    یا وہ جگہ بتا دے جہاں پر خدا نہ ہو

  • وقت کی دھار ہے میرے سر پر
    روز ذرا سا کٹ جاتا ہوں

  • اے دل کی خلش چل یونہی سہی چلتا تو ہوں ان کی محفل میں
    اس وقت مجھے چونکا دینا جب رنگ پہ محفل آجائے

  • یہ دکھ نہیں کہ اندھیروں سے صلح کی ہم نے
    ملال یہ ہے کہ اب صبح کی طلب بھی نہیں

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔