بیت بازی

ارکان کی دلچسپی کے لیے ہم نے بیت بازی کا مقابلہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس میں باقی قوانین تو وہی ہوں گے البتہ یہ شرط ہو گی کہ شعر بہت اچھا ہو۔ اگر شعر میں کوئی ایسا لفظ ہو جسے بعد میں لغت کا حصہ بنایا جا سکتے تو بہت اچھا البتہ یہ کوئی شرط نہیں ہے۔

سب سے پہلا شعر میں پیش کیے دیتا ہوں

سناہٹے میں جان کے ہوش و حواس و دم نہ تھا
اسباب سارا لے گیا آیا تھا اک سیلاب سا

لفظ سناہٹا لغت میں نہیں ہے، اس لیے میں اسے شامل کر رہا ہوں۔

«13456710

تبصرے

  • ان حسرتوں سےکہہ دوکہیں اورجابسیں
    اتنی جگہ کہاں ہےدلِ داغ دار میں

  • ارشد صاحب آپ نے غالباً داغ دار ہونا شامل کیا ہے۔

  • موزن مرحبا برقت بولا
    تری آواز مکے اور مدینے

  • جی. اور حسرت بھی
  • حمام وکبوتر کا بھوکانہیں میں
    کہ ہے زندگی باز کی زاہدانہ
  • ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ہے
    لکھے پڑھے کو فارسی کیا ہے

  • حسرت اس معنی میں نہیں تھا جس میں میں نے ڈالا
  • ریت سے بت نہ بنا, اے مرے اچھے فنکار
    ایک لمحے کو ٹھہر, میں تجھے پتھر لا دوں
  • نہ ہوا پر نہ ہوا میر سا انداز نصیب
    ذوق یاروں نے بہت زور غزل میں مارا

  • نہ چھیڑ اے نکہت باد بہاری راہ لگ اپنی
    تجھے شوخیاں سوجھی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں

  • نہ پوچھو عہد الفت کی بس اک خواب پریشاں تھا
    نہ دل کو راہ پر لائے نہ دل کا مدعا سمجھے

  • شاہد صاحب، تھوڑی سی اصلاح

    نہ ہوا پر نہ ہوا میر٭ کا٭ انداز نصیب

    اور

    تجھے ٭اٹکھیلیاں٭ سوجھی ہیں

  • یا رب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے
    لوحِ جہاں پر حرفِ مکرر نہیں ہوں میں

  • پھر پلٹ کر نگہ نہیں آئی
    تجھ پہ قربان ہو گئی ہو گی

  • یار یہ راز دوانوں کو بتانے کا نہیں
    دشت وحشت کا اثانہ ہے دوانے کا نہیں

  • نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
    تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر

  • چٹانوں میں
  • ناصحا، تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے
    روز آ جاتا ہے سمجھاتا ہے یوں ہے یوں ہے

  • یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
    کوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غم گسار ہوتا
  • اب جو بار میں تنہا پیتا ہوں کافی کے نام پہ زہر
    اس کی تلخ سی شیرینی میں اس کے لب کا حصہ ہے

  • یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
    اگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا

  • June 2016 کو ترمیم کیا

    نہ ہوا پر نہ ہوا میر کا انداز نصیب
    ذوق یاروں نے بہت زور غزل میں مارا

  • میں تو تیری یاد کا بادل اوڑھ کر سو ہی جاؤں گا
    توکس در پر دستک دیگا رات پڑی جو رستے میں

  • نیند تو بچپن میں آتی تھی
    اب تو تھک کر سوجاتے ہیں

  • نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں، نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں
    نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زلف ایاز میں

  • نظر میں بے رخی لب پر تبسم
    نہ جانے دل میں کیا ٹھانے ہوئے ہیں

  • نہ وہ آئیں کہ راحت ہو، نہ موت آئے کہ فرصت ہو
    پڑا ہے دل کشاکش میں نہ غم نکلے نہ دم نکلے

  • یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے
    کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے

  • یہ دل تو اس کے نام کا پڑاؤ ہے
    جہاں وہ ایک بار بھی نہیں رہا

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔