ہمشیر/ہمشیرہ

(رفاقت راضی)

اللہ پاک میرے تمام گناہوں کو معاف فرمائے۔ فن لغت سے نسبت بھی کن پیش پا افتادہ مباحث میں کوچہ گردی کرواتی ہے۔ ہر کچھ مدت بعد کوئی ایسا لفظ از سر نو غلط قرار دیا جاتا ہے جسے کئی نسلیں استعمال کر چکی ہیں۔ جیسے اردو زبان استعمالی زبان نہ ہو بلکہ پہلے اس کے قواعد مرتب ہوئے ہوں اور بعد میں اسے دہلی،دکن،پنجاب یا سندھ والوں نے بولنا شروع کیا ہو

مولانا سلیمان ندوی نے "مشکور " لفظ تک کے بارے میں تفصیل سے بتا دیا تھا کہ اردو کے استعمال کے لحاظ سے نہ صرف جائز بلکہ فصیح ہے
ایسا ہی ایک لفظ ہم شِیرہ ہے جس کے بارے میں ایک محترم دوست کی طرف سے پھر یہ رائے دہرائی گئی کہ یہ سراسر غلط ہے۔ کیوں کہ شیر دودھ ہوتا ہے اور فارسی میں اس کے آگے ہ نہیں آتی۔ اس پر مختصر عرض یہ ہے:

ابتدا میں ایسی قیاسی و قواعدی تصحیحات درست معلوم پڑتی ہیں۔ لیکن زبان کے وسیع تناظر میں دیکھییں تو بعض الفاظ خلاف قیاس ہوتے ہوئے بھی دوسری مستقل زبان میں درست ہوتے ہیں
ہم شیرہ کا لفظ قیاسی طور پر فارسی میں غلط ہے اور ابتدا میں ہمارے یہاں بھی اس کی تغلیط و تصحیح پر مختلف آرا مل جائیں گی لیکن اب اس کا استعمال غلط العام ہے اگرچہ اسے فصیح بھلے نہ کہا جائے۔
مولوی نور الحسن نے نور اللغات میں ہم شیر کے اندراج میں لکھا: رضاعی بھائی،حقیقی بھائی

اور ہم شیرہ کے اندارج میں لکھا :مؤنث۔۔ خواہر،بہن
مولوی نور کے اندراجات پر ان کے مشہور ناقد اثر لکھنوی نے بھی کوئی اعتراض فرہنگ اثر میں نہیں کیا جس سے اہل لکھنؤ کی اکثریت کا اس لفظ کے درست ہونے پر اتفاق دکھائی دیتا ہے

اور اہل دہلی کےبھی نمائندہ مولوی سید احمد دہلوی نے "فرہنگ آصفیہ " میں نہ صرف ہم شیر یا ہم شیرہ لکھا بلکہ اس کا ذیلی اندراج ہم شیر زاد یا ہم شیرہ زاد بھی لکھا۔

رہی بات شِیر کے ساتھ ہ کے اضافے کی تو اردو نے اور بھی بہت سے الفاظ کے ساتھ ہ لگا رکھا ہے۔ کیا شکریہ جیسا لفظ بھی غلط قرار پائے گا کیوں کہ عربی میں تو شکرا ہے شکریہ نہیں۔ اردو والوں نے عربی الفاظ کی ہیئت پر ایک لفظ وضع کر لیا۔ میری معلومات کے مطابق کوئی بھی مستند زبان دان /لغت شناس لفظ شکریہ کو غلط قرار نہیں دیتا۔ دے تو خود غلط قرار دیا جائے
اگر الفاظ کے ان قیاسی استعمالات پر اصرار کیا جائے جو اصل زبان میں کبھی تھے تو شاید آدھی سے زیادہ اردو سے نہ صرف ہاتھ دھونے پڑیں بلکہ شاید غسل کرنا پڑے

تبصرے

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔