الو مشرق اور مغرب میں

لفظ الو کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے۔ بظاہر یہ اس لفظ کا ماخذ ہزاروں سال پرانا ہے اور اس کے ڈانڈے بہت دور جا کر ملتے ہیں۔

انگریزی میں الو کو آول کہا جاتا ہے، لاطینی میں الولا ہے جب کہ سنسکرت میں یہ پرندہ الوک کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

سنسکرت، انگریزی اور یونانی تینوں زبانوں کی جدِ امجد پروٹو انڈو یورپین (جو آج سے کم از کم چھ ہزار سال قبل بولی جاتی تھی) میں ’اووال‘ تھا، جو واضح طور پر اوپر درج شدہ چاروں زبانوں کے الفاظ میں دیکھا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پروٹو انڈو یورپین میں اس پرندے کی وجۂ تسمیہ اس کی مخصوص پکار تھی جو ’اوو اوو‘ سے مشابہ تھی چنانچہ یہی اس کا نام پڑ
گیا۔

البتہ یہ پہلو ضرور مختلف ہے کہ مغرب میں اس جانور سے دانائی اور تفکر کے پہلو وابستہ ہیں جب کہ ہمارے ہاں مشرق میں یہ بےوقوفی کی علامت مانا جاتا ہے، اور کسی کو الو کہنا گالی کے مترادف ہے۔

یہ بات قابلِ غور ہے کہ لفظ کا ماخذ ایک اور صوتیات ایک جیسی ہونے کے باوجود ہزارہا برس کے فاصلے کے بعد اس پرندے سے وابستہ ثقافتی انسلاکات دونوں جگہ ایک دوسرے کے قریب قریب متضاد ہو گئے ہیں۔

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔