The way you access our dictionary content is changing.

As part of the evolution of the Oxford Global Languages (OGL) programme, we are now focussing on making our data available for digital applications, which enables a greater reach in delivering and embedding our language data in the daily lives of people and providing more immediate access and better representation for them and their language.

Because of this, we have made the decision to close our dictionary websites.
Our Oxford Urdu living dictionary site closed on 31st March 2020, and this forum closed with it.

We would like to warmly thank everyone for your participation and support throughout these years – we hope that this forum, and the dictionary site, have been useful
You were instrumental in making the Oxford Global Languages initiative a success!

Find out more about what the future holds for OGL:
https://languages.oup.com/oxford-global-languages/

الو مشرق اور مغرب میں

لفظ الو کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے۔ بظاہر یہ اس لفظ کا ماخذ ہزاروں سال پرانا ہے اور اس کے ڈانڈے بہت دور جا کر ملتے ہیں۔

انگریزی میں الو کو آول کہا جاتا ہے، لاطینی میں الولا ہے جب کہ سنسکرت میں یہ پرندہ الوک کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

سنسکرت، انگریزی اور یونانی تینوں زبانوں کی جدِ امجد پروٹو انڈو یورپین (جو آج سے کم از کم چھ ہزار سال قبل بولی جاتی تھی) میں ’اووال‘ تھا، جو واضح طور پر اوپر درج شدہ چاروں زبانوں کے الفاظ میں دیکھا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پروٹو انڈو یورپین میں اس پرندے کی وجۂ تسمیہ اس کی مخصوص پکار تھی جو ’اوو اوو‘ سے مشابہ تھی چنانچہ یہی اس کا نام پڑ
گیا۔

البتہ یہ پہلو ضرور مختلف ہے کہ مغرب میں اس جانور سے دانائی اور تفکر کے پہلو وابستہ ہیں جب کہ ہمارے ہاں مشرق میں یہ بےوقوفی کی علامت مانا جاتا ہے، اور کسی کو الو کہنا گالی کے مترادف ہے۔

یہ بات قابلِ غور ہے کہ لفظ کا ماخذ ایک اور صوتیات ایک جیسی ہونے کے باوجود ہزارہا برس کے فاصلے کے بعد اس پرندے سے وابستہ ثقافتی انسلاکات دونوں جگہ ایک دوسرے کے قریب قریب متضاد ہو گئے ہیں۔

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔