سرسری اور کرسری

اردو لفظ سرسری کا مطلب تو آپ جانتے ہی ہوں گے، یہ فارسی سے ماخوذ ہے اور اس کا مطلب ہے زیادہ توجہ دیے بغیر، یا زیادہ غور کیے بغیر۔ میر کا شعر مشہور ہے

سرسری تم جہان سے گزرے
ورنہ ہر جا جہانِ دیگر تھا

اس شعر کا احمد مشتاق نے یوں جواب دیا

جہانِ عشق سے ہم سرسری نہیں گزرے
یہ وہ جہاں ہے جہاں سرسری نہیں کوئی شے

حیرت انگیز طور پر اس سرسری کے مقابلے پر انگریزی لفظ کرسری ہے
cursory
اور اس کا مطلب لغات میں لکھا ہے
سرسری

یہ اتفاق نہایت دلچسپ ہے، خاص طور پر جب ہم دیکھتے ہیں کہ انگریزی میں یہ لفظ سی سے شروع ہوتا ہے جو بعض اوقات س کی آواز بھی دیتا ہے، اس لیے بڑی آسانی سے معنوی اعتار سے تو مطابقت ہے، صوتی اعتبار سے بھی دونوں لفظ ہوبہو ایک ہو جاتے ہیں۔

اب فارسی اور انگریزی دونوں ہندیورپی زبانوں کے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں، اس لیے خیال گزر سکتا تھا کہ شاید دونوں لفظوں کا ماخذ پیچھے جا کر ایک ہو۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔

انگریزی لفظ کرسری پروٹو انڈویوروپین کے جس مادے سے نکلا ہے وہ ہے

*kers-

اور اس کا مطلب ہے دوڑنا۔ اسی مادے سے انگریزی کے متعدد الفاظ بنے ہیں

car; career; cargo; carriage; carrier; carry; chariot; corridor; courier; course;

وغیرہ

دوسری طرف سرسری کا ماخذ سراسر ہے، یعنی ایک سرے سے دوسرے سرے تک۔ جب آپ جلد ہی کسی چیز کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک نظر دوڑاتے ہیں تو کسی ایک جگہ کو توجہ سے دیکھنے کا موقع نہیں ملتا۔

دونوں زبانوں کے الفاظ کا یہ اتفاقی معنوی اور صوتی ملاپ بہت دلچسپ اور عجیب ہے۔

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔