ماروں گھٹنا ۔۔۔

میر صاحب کا شعر ہے

مدت ہوئی کہ زانو سے اٹھتا نہیں ہے سر
کڑھنے کے رات دن سے ہمیں کب فراغ ہے

شعر تو عمدہ اور میر کے مخصوص رنگ کا ہے مگر یہاں لفظ زانو پر ذرا بات ہو جائے کہ اس کے ڈانڈے دور تک جا کر ملتےہیں۔

لغات میں لکھا ہے کہ یہ لفظ فارسی کا ہے۔ فارسی میں یہ قدیم فارسی یعنی اوستا سے آیا ہے اور وہاں اس کی شکل ’زنم‘ تھی۔ لیکن دوسری طرف اوستا کی بہن سنسکرت پر نظر ڈالی جائے تو گھٹنے ہی کے معنی میں ’جانو‘ ملتا ہے۔ ظاہر ہےکہ سنسکرت میں ز کی آواز ج سے بدل جاتی ہے، اس لیے یہ بنیادی طور پر ایک ہی لفظ ہیں۔

پاکستان کے ہزارہ ڈویژن اور آزاد کشمیر میں زانو کو ’جنُو‘ کہا جاتا ہے، جو واضح طور پر سنسکرت کے جانو ہی سے آیا ہے۔
لیکن بات یہیں پر نہیں ختم ہوتی۔

انگریزی کاایک لفظ آپ نے سن رکھا ہو گا
Genuflect
یہ لاطینی سے آیا ہے اور اس کا مطلب ہے گھٹنے ٹیکنا۔ فلیکٹ کا مطلب جھکانا اور جینو گھٹنا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ لاطینی کا جینو ہندکو کے جنو سے ٹکرا گیا ہے۔ اسی لفظ کا ج گ میں بدل کر لاطینی میں گونیا ہو جاتا ہے اور اینگل یعنی زاویہ اسی سے مشتق ہے۔

لیکن بات یہاں بھی ختم نہیں ہوتی۔ لاطینی، سنسکرت، فارسی یا ہندکو سبھی ہند آریائی زبانوں کے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں جن کا منبع پروٹو انڈو یورپیئن زبان یا پی آئی ای ہے۔ یہ معدوم زبان آج سے ہزاروں برس قبل وسطی ایشیا کی چراگاہوں میں بولی جاتی تھی۔ اس زبان میں جینو کا مطلب گھٹنا نہیں

بلکہ جبڑا تھا!
شاید اسی موقعے کے لیے کہا گیا ہے، ’ماروں گھٹنا، پھوٹے آنکھ!‘

اس کے شواہد کچھ یوں ملتے ہیں کہ سنسکرت میں یہی جینو ہنوُہ بمعنی ٹھوڑی کی صورت میں دکھائی دیتا ہے۔

چنانچہ اوستا میں زنو کا مطلب ٹھوڑی تھا اور اسی سے فارسی لفظ ’زنخ‘ وجود میں آیا ہے جو چاہِ زنخداں‘ کی شکل میں اردو میں بھی مستعمل ہے۔
ہم نے اس تحریر کا آغاز گھٹنے سے کیا تھا، انجام ٹھوڑی سے میر ہی معنوی شاگرد مصحفی کی زبان میں کرتے ہیں

رخ سے لہرا کر زنخداں کے ہیں مائل موئے زلف
دوڑتا ہے چاہ کی جانب ہی پیاسا دھوپ میں

تبصرے

  • پشتو میں گھٹنوں کے لیے "زنگون" اور ٹھوڑی کے لیے "زنی" کا استعمال بھی قابلِ غور ہے۔

  • قاضی صاحب آپ نے نہایت عمدہ سمت نمائی کی ہے۔ اس سے اوپر دیے گئے بیان کی مزید وضاحت ہو جاتی ہے۔

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔