دوشیزہ

ایک اور لڑی میں
umuhammad
صاحب نے پوچھا ہے کہ لفظ دوشیزہ کا ماخذ کیا ہے۔

کتابوں میں لکھا ہے کہ لفظ دوشیزہ دوخت سے نکلا ہے اور دوخت بذاتِ خود دوخ یا دوہ کی پیداوار ہے جو قدیم فارسی میں دودھ کو کہتے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ پرانے زمانے میں دودھ دوہنے کا کام بیٹیوں کے ذمے ہوا کرتا
تھا اسے لیے دوہ سے دوہتر یعنی دودھ دوہنے والی بنا۔ اسی لفظ سے فارسی لفظ دختر اور انگریزی ڈاٹر وجود میں آیا ہے۔

ہند یورپی زبانوں کی جدِ امجد پروٹو انڈو یورپیئن میں بھی یہ لفظ موجود تھا اور وہیں سے بقیہ زبانوں تک منتقل ہوا ہے۔

تبصرے

  • ظفر بھائی۔۔۔۔۔۔دختر کا تو آپ نے بالکل درست لکھا۔۔۔۔۔احمد دین کا نظریہ بھی یہی ہے۔۔۔۔۔۔پہلے جب دختر پر بحث ہو رہی تھی تب بھائی شاہین نے دختر اور دوشیزہ کا ایک ہی مادہ بتایا تھا یعنی دوشیدن ۔۔۔۔۔۔۔۔ بہرحال کوش کرتے ہیں اس لفظ کے لئے

  • بہت شکریہ جناب۔ یہ لفظ سنسکرت میں بھی دوہیتر کی شکل میں موجود ہے۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ اس کے ڈانڈے دور دور تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اس پر تفصیلی بات ہونی چاہیے۔

  • مولانا محمد حسین آزاد کی رائے میں بھی دوشیزہ کا مطلب دودھ دوہنے والی ہے۔۔۔۔۔۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ دوشیدن قدیم فارسی میں دو ختن تھا جس کا مطلب دودھ دوہنا ہے۔۔۔۔۔۔سنسکرت میں بیٹی کے لئے"دوھ دھری"استعمال ہوتا ہے جس کا مطلب"دودھ دوہنے والی"ہے۔دھری کا مطلب"کھینچنے والی' ہوتا ہے،یہ ایک قدیم فعل ہے۔قدیم آریائی معاشرے میں لڑکیوں کے لئے"دوہتر"رائج ہوا تو لڑکوں کے لئے"بھراتر"استعمال ہوا جس کا مطلب ہے"بوجھ اٹھانے والا"۔۔۔۔۔۔۔اس لئے غالب امکان یہی ہے کہ دوشیزہ اور دختر کا ایک ہی مادہ ہے

  • پلیٹس نے بھی دوشیدن ہی مادہ لکھا ہے

  • احمد سجاد صاحب، دختر/ڈاٹر پر بھی ذرا بات کر لیتے ہییں:

    فارسی میں لسی کو دوغ کہتے ہیں۔ آپ نے مشہور کہاوت سنی ہو گی، کسے نہ گوید کہ دوغِ من ترش است۔ بعض لغات میں لکھا ہے کہ قدیم فارسی میں دوغ دودھ کو کہتے تھے، جو ہمارے دودھ سے صوتی لحاظ سے بہت قریب ہے۔

    لیکن میرا دل نہیں مانتا کہ دودھ دوہنے والی کو بیٹی کہنے لگے۔ دودھ دوہنے والی لڑکی تو خاصی عمر کی ہوتی ہے، جب کہ بیٹی تو پیدا ہوتے ہی بیٹی بن جاتی ہے۔ تو اس وقت تک اس کو کیا کہتے تھے؟

    میں پروٹو انڈو یوروپیئن ماخذات کا کھوج لگانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ میرا خیال سے کھرا وہیں جا کر نکلے گا۔

  • یہ بھی تو ممکن ہے کہ جب یہ شعبہ بیٹیوں کے پاس چلا گیا یعنی ان کو سونپ دیا گیا تو اس کے بعد ہر بچی دختر ہی کہلائے جانے لگی

  • ایک بےحد دلچسپ بات کا انکشاف ہوا ہے۔

    ہند آریائی زبانوں کی والدہ ماجدہ پروٹو انڈو یورپیئن کا ایک مادہ ہے

    *dhe(i)

    اس کا مطلب ہے چوسنا۔

    مزے کی بات یہ ہے کہ ماہرین کے مطابق لاطینی مادہ فیم
    fem
    بھی اسی مشتق ہے، اور اس سے بننے والے درجنوں الفاظ انگریزی اور دوسری یورپی زبانوں میں مستعمل ہیں جیسے فیمیل۔

    اب ذرا اوپر دیے گئے ہندآریائی مادے کو اردو رسم الخط میں لکھ کر دیکھیے تو کیا بنتا ہے؟

    دھی

    یہ وہی دھی ہے جو پنجابی میں بیٹی کو کہتے ہیں!!!!!!۔

    ہے نا مزے کی بات؟

  • ایک اور متعلقہ نکتہ یہ ہے کہ انگریزی میں ایک سلینگ استعمال ہوتا ہے

    dug

    لغات میں اس کا مطلب لکھا ہے

    "animal nipple," or, contemptuously, "the human female breast"

    یہ لفظ اوپر دیے گئے ہندآریائی مادے سے خاصا قریب دکھائی دیتا ہے، دوسری طرف فارسی دوغ سے بھی مماثلت رکھتا ہے۔

    اس تمام بحث سے معلوم ہوتا ہے کہ دختر/ڈاٹر/دوشیزہ کا تعلق صرف دودھ سے نہیں بلکہ چوسنے کے عمل اور پستان سے بھی ہے۔

  • میرے تاثر کے مطابق "دوشیزہ" بالغ بچی کو کہتے ہیں۔ سو ممکن ہے کہ اس سے مراد اس عمر کی بچی ہو جو دودھ دوہنے کے قابل ہو چکی ہو۔

  • قاضی صاحب، دوشیرہ بالغ لڑکی ہی کو کہتے ہیں۔ اردو کے اخباروں کی سرخیاں اس کی گواہ ہیں!!!۔

    دودھ دوہنے کی سرگرمی اپنی جگہ، لیکن اوپر عرض کی گئی بحث سے ایک عندیہ بھی ملتا ہے کہ اس کا تعلق اس عمر سے مخصوص عمل یعنی جوبن کی اٹھان سے بھی ہو سکتا ہے۔

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔