کہانی نویسی کا مقابلہ برائے طلبہ -- انعام یافتہ کہانیاں

August 13 کو ترمیم کیا میں عمومی


اوکسفرڈ اردو ڈکشنری نے 2018 کا مضمون/کہانی نویسی کا مقابلہ منعقد کروایا جس کا عنوان تھا، وہ واقعہ جس نے مجھے اردو سے محبت پر مجبور کر دیا۔

یہ مقابلہ 14 سے 16 برس کے طلبہ و طالبات کے لیے تھا جس میں انھیں کوئی ایسا واقعہ یا کہانی بیان کرنا تھی جس کے بعد ان کے دلوں میں اردو کی محبت مزید اجاگر ہو گئی۔

اس مقابلے میں ہمیں نہ صرف پاکستان کے طول و عرض سے بڑی تعداد میں کہانیاں موصول ہوئیں بلکہ ہندوستان سے دیوناگری رسم الخط میں لکھی ہوئی کئی کہانیاں بھی شریکِ مقابلہ ہوئیں۔

ہمارے منصفین نے (جن میں ڈاکٹر سلیم سہیل اور ظفر سید شام تھے) نہایت محنت اور دقت نظری سے ایک معین نظام کے تحت ہر کہانی کی درجہ بندی کی جس کے نتائج درجِ ذیل ہیں:

اس مقابلے کی فاتح نویں جماعت کی طالبہ سیدہ زینب عابدی ہیں جن کی عمر 14 سال ہے اور ان کا تعلق کراچی سے ہے۔

یہ کہانی مقابلے کے مصنفین کو اپنے تخلیقی انداز اور بیان کی سادگی اور تاثیر کی وجہ سے پسند آئی۔

اوکسفرڈ اردو ڈکشنری کی ٹیم زینب کو ان کی اس کامیابی کے لیے تہہِ دل سے مبارک باد پیش کرتی ہے۔

آپ یہ کہانی یہاں پڑھ سکتے ہیں۔

دوسرے نمبر پر آنے والی کہانی کی مصنفہ ضلع ننکانہ صاحب کی قرۃ العین ہیں۔ ان کی کہانی اپنے اچھوتے پن اور تخلیقی فضا کی وجہ سے موصول ہونے والی تمام کہانیوں میں منفرد رہی۔

یہ کہانی یہاں پڑھی جا سکتی ہے۔

تیسرے نمبر پر آنے والی کہانی/مضمون کی مصنفہ کا نام فاکہہ قاسم ہے اور ان کا تعلق اسلام آباد سے ہے۔ اس کہانی میں انھوں نے جیسے ضرورتِ رشتہ کے اشتہار کو موضوع کے مطابق ڈھالا وہ مصنفین کو نہایت پسند آیا۔

آپ یہ کہانی یہاں ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

ہم مقابلے میں کامیاب ہونے والے تمام شرکا کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ وہ اردو لکھنے پڑھنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

تبصرے

  • ہمیں بڑا مان تھا کچھ اظہار الفت اردو ہم بھی کریں گے لیکن عمر کی حد سے گزر گیے ہر ماں عظیم ہوتی ہے اس لیے ہمیں اردو سے محبت ہے
  • عباسی صاحب، مجھے افسوس ہے کہ آپ اس مقابلے میں باقاعدہ شرکت نہیں کر پا رہے کیوں کہ یہ صرف طلبہ کے لیے ہے۔ لیکن اگر آپ لکھنا چاہتے ہیں ضرور کہانی لکھ دیجیے۔ مقابلے میں شریک نہ سہی لیکن کم از کم اردو کی محبت کا حق تو ادا ہو جائے گا۔

  • عمر کی حد کی وجہ سے مقابلے میں حصہ نہیں لے سکتی
  • عمر کی حد ہم ماں بیٹی دونوں پر لگ رہی ہے۔ بیٹی سات سال کی ہیں اور والدہ بھی عمر کی انتہائے حد سے کہیں آگے ہیں۔ بہرحال شرکا کے لیے بیسٹ آف لک۔۔۔

  • ۱۷سال کا کوئی حصہ لے سکتا ھے پلیز۰۰۰۰؟
  • عمر رفتہ کا سوال پوچھ لیا آپ نے۔
  • اوکسفرڈ نے یہ مقابلہ ہائی سکول کے طلبہ کے لیے رکھا ہے۔ ان کا ارادہ ہے کہ اس مقابلے کے فوراً بعد عام پبلک کے لیے مقابلہ شروع کیا جائے۔ آپ دوستوں سے گزارش ہے کہ اس وقت تک کاغذ قلم سنبھال کر رکھیے اور اپنے خیالات مجتمع کر لیجیے۔

    اور ہاں، اگر آپ کے آس پاس اس عمر کا کوئی بچہ ہے تو اسے اس مقابلے کے بارے میں مطلع کر دیجیے۔

  • Can we write this story right now because we dont knew the last date
  • Please if you can do something than please give me a chance to take benifit from this opportunity my age is between 14 -16
  • Can we send story by email? Because in instruction there is written that
    آی میل کے ذریعے تحریر اس بات کی ضمانت نیہی ہو گی ک تحریر موصول ہوگیء
  • ہم نے سوچا ہم بھی اردو سے محبت کا اظہار کریں مگر ہماری عمر ہی نہیں اظہار رائے کی۔۔
  • کوکب: آپ فکر نہ کریں،جلد ہی بغیر عمر قید کے مقابلہ شروع کیا جائے گا۔ اس میں آپ اردو سے محبت کا اظہار کر سکتے ہیں۔

    محبوب: مقابلے کی تاریخ تیس جون تک بڑھا دی گئی ہے۔ آپ کے پاس اب بھی وقت ہے، بس جلد از جلد کہانی لکھ بھیجیے۔

  • How can i get notification from this website...I've an interest in urdu story writing..
  • اوکسفرڈ اردو ڈکشنری کا مضمون/کہانی نویسی کا مقابلہ برائے 2018
    اوکسفرڈ اردو ڈکشنری نے 2018 کا مضمون/کہانی نویسی کا مقابلہ منعقد کروایا جس کا عنوان تھا، وہ واقعہ جس نے مجھے اردو سے محبت پر مجبور کر دیا۔

    یہ مقابلہ 14 سے 16 برس کے طلبہ و طالبات کے لیے تھا جس میں انھیں کوئی ایسا واقعہ یا کہانی بیان کرنا تھی جس کے بعد ان کے دلوں میں اردو کی محبت مزید اجاگر ہو گئی۔

    اس مقابلے میں ہمیں نہ صرف پاکستان کے طول و عرض سے بڑی تعداد میں کہانیاں موصول ہوئیں بلکہ ہندوستان سے دیوناگری رسم الخط میں لکھی ہوئی کئی کہانیاں بھی شریکِ مقابلہ ہوئیں۔

    ہمارے مصنفین نے نہایت محنت اور دقت نظری سے ایک معین نظام کے تحت ہر کہانی کی درجہ بندی کی جس کے نتائج درجِ ذیل ہیں:

    اس مقابلے کی فاتح نویں جماعت کی طالبہ سیدہ زینب عابدی ہیں جن کی عمر 14 سال ہے اور ان کا تعلق کراچی سے ہے۔

    یہ کہانی مقابلے کے مصنفین کو اپنے تخلیقی انداز اور بیان کی سادگی اور تاثیر کی وجہ سے پسند آئی۔

    اوکسفرڈ اردو ڈکشنری کی ٹیم زینب کو ان کی اس کامیابی کے لیے تہہِ دل سے مبارک باد پیش کرتی ہے۔

    آپ یہ کہانی یہاں پڑھ سکتے ہیں۔

    دوسرے نمبر پر آنے والی کہانی کی مصنفہ ضلع ننکانہ صاحب کی قرۃ العین ہیں۔ ان کی کہانی اپنے اچھوتے پن اور تخلیقی فضا کی وجہ سے موصول ہونے والی تمام کہانیوں میں منفرد رہی۔

    یہ کہانی یہاں پڑھی جا سکتی ہے۔

    تیسرے نمبر پر آنے والی کہانی/مضمون کی مصنفہ کا نام فاکہہ قاسم ہے اور ان کا تعلق اسلام آباد سے ہے۔ اس کہانی میں انھوں نے جیسے ضرورتِ رشتہ کے اشتہار کو موضوع کے مطابق ڈھالا وہ مصنفین کو نہایت پسند آیا۔

    آپ یہ کہانی یہاں ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

    ہم مقابلے میں کامیاب ہونے والے تمام شرکا کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ وہ اردو لکھنے پڑھنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔