چرائی چادرِ مہتاب

March 13 کو ترمیم کیا میں عمومی

اگر آپ نے مولانا محمد حسین آزاد کی کتاب آبِ خیات پڑھ رکھی ہے تو شاید شاہ نصیر کا یہ شعر آپ کی نظر سے گزرا ہو

چرائی چادرِ مہتاب شب میکش نے جیحوں پر
کٹورا صبح دوڑانے لگا خورشید گردوں پر

مولانا صاحب اس باب میں لکھتے ہیں

نواب سعادت یار خاں رنگینؔ، مجالس رنگین میں فرماتے ہیں کہ ایک جلسہ میں اس شعر کی بڑی تعریف ہو رہی تھی، میں نے اس میں اصلاح دی کہ

مصرعہ :چرائی چادر مہتاب شب بادل نے جیحوں پر​

ہو تو اچھا ہے، سبب یہ کہ جب بادل چاند پر آتا ہے تو چادر مہتاب نہیں رہتی ہے گویا چوری ہو جاتی ہے، یہاں چور تو زمین پر ہے اور مضمون عالم بالا پر، قصہ زمین برسر زمین ہوتا ہے، عالم بالا کے لئے چور بھی آسمانی ہی چاہیے، کسی شخص نے شاہ صاحب سے بھی جا کر کہا، وہ بہت خفا ہوئے اور کہا کہ نواب زادہ ہونا اور بات ہے اور شاعری اور بات ہے۔ خاں صاحب یہ خبر سن کر شاہ صاحب کے پاس گئے اور معذرت کی۔

اس کے بعد مولانا آزاد اپنا خیال پیش کرتے ہیں

مگر میرے نزدیک شاہ صاحب نے کچھ نامناسب نہیں کہا، چاند آسمان پر ہوتا ہے، چاندنی زمین پر ہوتی ہے اور چاندنی کا لطف میکش اڑاتا ہے، بادل کیا اڑائے گا اور میکش نہ ہو گا تو شعر غزلیت کے رتبہ سے گر جائے گا۔

یہ بات تو درست ہے۔ مگر اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

سائن ان یا رجسٹر تبصرہ کرنے کے لئے۔